الادب المفرد
كتاب الكرم و يتيم— كتاب الكرم و يتيم
بَابُ الإِحْسَانِ إِلَى الْبَرِّ وَالْفَاجِرِ باب: نیک اور بد کے ساتھ حسن سلوک کرنا
حدیث نمبر: 130
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ: ﴿هَلْ جَزَاءُ الإِحْسَانِ إِلاَّ الإِحْسَانُ﴾ [الرحمٰن: 60]، قَالَ: هِيَ مُسَجَّلَةٌ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: مُسَجَّلَةٌ مُرْسَلَةٌ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
محمد ابن حنفیہ رحمہ اللہ جو کہ سیدنا علی کے بیٹے ہیں، کہتے ہیں کہ آیتِ مبارکہ «هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ» [سورہ الرحمن: 60] ”نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے۔“ نیک اور بد سب کے لیے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابو عبید نے کہا: «مسجلة» کے معنی ہیں مطلق۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
آیت کریمہ:﴿هَلْ جَزَآءُ الْاِِحْسَانِ اِِلَّا الْاِِحْسَانُ﴾ کی تفسیر یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں اچھے اعمال کرے گا اسے آخرت میں اللہ تعالیٰ اچھا بدلہ عطا کرے گا بلکہ اپنی طرف سے زیادہ بھی عنایت فرمائے گا۔ اسی طرح دنیا میں اگر کوئی برا شخص کسی کے ساتھ نیکی کرتا ہے تو اس کا بدلہ بھی دینا چاہیے قطع نظر اس کے کہ وہ برا ہے یا اچھا۔ بلکہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ((لَیْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُکَا فِیئِ وَلٰکِنِ الْوَاصِلُ الَّذِی إذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا))
’’بدلہ دینے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں، حقیقتاً صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جس کے ساتھ قطع رحمی کی جائے تو بھی وہ صلہ رحمی کرے۔‘‘ (صحیح البخاري، الأدب، حدیث:۵۹۹۱)
آیت کریمہ:﴿هَلْ جَزَآءُ الْاِِحْسَانِ اِِلَّا الْاِِحْسَانُ﴾ کی تفسیر یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں اچھے اعمال کرے گا اسے آخرت میں اللہ تعالیٰ اچھا بدلہ عطا کرے گا بلکہ اپنی طرف سے زیادہ بھی عنایت فرمائے گا۔ اسی طرح دنیا میں اگر کوئی برا شخص کسی کے ساتھ نیکی کرتا ہے تو اس کا بدلہ بھی دینا چاہیے قطع نظر اس کے کہ وہ برا ہے یا اچھا۔ بلکہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ((لَیْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُکَا فِیئِ وَلٰکِنِ الْوَاصِلُ الَّذِی إذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا))
’’بدلہ دینے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں، حقیقتاً صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جس کے ساتھ قطع رحمی کی جائے تو بھی وہ صلہ رحمی کرے۔‘‘ (صحیح البخاري، الأدب، حدیث:۵۹۹۱)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 130 سے ماخوذ ہے۔