حدیث نمبر: 1296
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: قَالَ رَجُلٌ: أَصْلَحَ اللَّهُ الأَمِيرَ، إِنَّ آذِنَكَ يَعْرِفُ رِجَالاً فَيُؤْثِرُهُمْ بِالإِذْنِ، قَالَ: عَذَرَهُ اللَّهُ، إِنَّ الْمَعْرِفَةَ لَتَنْفَعُ عِنْدَ الْكَلْبِ الْعَقُورِ، وَعِنْدَ الْجَمَلِ الصَّؤُولِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ تعالیٰ امیر کی اصلاح فرمائے، بلاشبہ آپ کا دربان جن لوگوں کو پہچانتا ہے، انہیں اجازت دینے میں ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ اس کا عذر قبول فرمائے، بلاشبہ جان پہچان تو کاٹنے والے کتے اور حملہ کرنے والے اونٹ کے ہاں بھی فائدہ دیتی ہے (کہ وہ اس وجہ سے جانے پہچانے قریب کے لوگوں کو کچھ نہیں کہتے)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں ابو اسحاق راوی مدلس ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں ابو اسحاق راوی مدلس ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1296 سے ماخوذ ہے۔