حدیث نمبر: 1295
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَحْمًا بِالْجِعْرَانَةِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلاَمٌ أَحْمِلُ عُضْوَ الْبَعِيرِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَبَسَطَ لَهَا رِدَاءَهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذِهِ؟ قَالَ: هَذِهِ أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے جعرانہ مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت تقسیم کرتے دیکھا جبکہ میں ان دنوں نوعمر لڑکا تھا، میں اونٹ کے گوشت کے ٹکڑے اٹھا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اس کے لیے بچھا دی۔ میں نے عرض کیا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ماں ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم سابقہ تعلقات کا خیال رکھنا اور عہد کی پاسداری کرنا مسنون امر ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اچھا کھانا بناتے تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھی بھیجتے تھے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم سابقہ تعلقات کا خیال رکھنا اور عہد کی پاسداری کرنا مسنون امر ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اچھا کھانا بناتے تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھی بھیجتے تھے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1295 سے ماخوذ ہے۔