حدیث نمبر: 1294
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ‏:‏ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ‏:‏ تَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَالْخِتَانُ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت سے ہیں: ”ناخن تراشنا، مونچھیں کاٹنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال مونڈنا اور ختنہ کرنا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1294
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوفًا و الأصح المرفوع الذى قبله بحديث
تخریج حدیث «صحيح الإسناد موقوفًا و الأصح المرفوع الذى قبله بحديث : أخرجه مالك فى الموطأ : 921/2 و النسائي : 5447»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
ان روایات سے معلوم ہوا کہ بغلوں کے بال اکھیڑنا مسنون ہے۔ اگر بچپن سے اس کی تعلیم ہو تو جب یہ بال آئیں اور انہیں اکھیڑنا شروع کیا جائے، استرے کا استعمال نہ کیا جائے تو مشکل پیش نہیں آتی، نیز بغلوں سے بو بھی نہیں آتی اور بال زیادہ نہیں ہوتے۔ دیگر امور کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1294 سے ماخوذ ہے۔