حدیث نمبر: 1289
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَخُو عُبَيْدٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ مَا يَزَالُ الْمَسْرُوقُ مِنْهُ يَتَظَنَّى حَتَّى يَصِيرَ أَعْظَمَ مِنَ السَّارِقِ‏.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس کی چوری ہوئی ہو وہ مسلسل بدگمانی کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ چور سے بھی (گناہ میں) بڑھ جاتا ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1289
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أنظر تاريخ بغداد : 199/16 و تهذيب التهذيب : 159/11 و ميزان الاعتدال : 380/4»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ بدگمانی سے بچنا چاہیے کیونکہ بدگمانی کا گناہ بسا اوقات چوری کے گناہ سے بڑھ جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1289 سے ماخوذ ہے۔