حدیث نمبر: 1285
وَعَنْ جَرِيرٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ‏:‏ دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِي عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ‏:‏ إِنَّ أَحَدَنَا يَعْرُضُ فِي صَدْرِهِ مَا لَوْ تَكَلَّمَ بِهِ ذَهَبَتْ آخِرَتُهُ، وَلَوْ ظَهَرَ لَقُتِلَ بِهِ، قَالَ‏:‏ فَكَبَّرَتْ ثَلاَثًا، ثُمَّ قَالَتْ‏:‏ سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ‏:‏ ”إِذَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ أَحَدِكُمْ فَلْيُكَبِّرْ ثَلاَثًا، فَإِنَّهُ لَنْ يُحِسَّ ذَلِكَ إِلا مُؤْمِنٌ‏.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

شہر بن حوشب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے ماموں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور عرض کیا: ہم میں سے کسی ایک کے سینے میں ایسے خیالات آتے ہیں کہ اگر وہ انہیں زبان پر لائے تو اس کی آخرت تباہ ہو جائے، اور اگر ظاہر ہو جائے تو وہ قتل کر دیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ سن کر تین دفعہ «اللہ اکبر» کہا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے ساتھ ایسی صورت حال پیش آئے تو وہ تین مرتبہ اللہ اکبر کہے۔ بلاشبہ اس چیز کا احساس مومن کے سوا کسی کو نہیں ہوتا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1285
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : أخرجه هناد فى الزهد : 469/2 و أبويعلى : 4630»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں شہر بن حوشب اور لیث دو راوی ضعیف ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1285 سے ماخوذ ہے۔