الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ بِهَا حَاجَةً باب: جس زمین پر اللہ تعالیٰ کسی بندے کو فوت کرنا چاہتا ہے وہاں اسے کوئی کام ڈال دیتا ہے
حدیث نمبر: 1282
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ بِهَا حَاجَةً.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو عزه یسار بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی زمین میں فوت کرنا چاہتا ہے تو اس جگہ اسے کوئی کام ڈال دیتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
کسی انسان کو معلوم نہیں کہ اس نے کہاں فوت ہونا ہے۔ اللہ کی تقدیر اسے اس جگہ لے جاتی ہے جہاں اس کی موت لکھی ہوتی ہے۔ موت کا وقت اور جگہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ﴾ (لقمان:۳۴)
’’اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں فوت ہوگا۔‘‘
کسی انسان کو معلوم نہیں کہ اس نے کہاں فوت ہونا ہے۔ اللہ کی تقدیر اسے اس جگہ لے جاتی ہے جہاں اس کی موت لکھی ہوتی ہے۔ موت کا وقت اور جگہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ﴾ (لقمان:۳۴)
’’اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں فوت ہوگا۔‘‘
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1282 سے ماخوذ ہے۔