حدیث نمبر: 1281
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص مسلمانوں سے بلا وجہ یا کسی تاویل کے بغیر لڑائی کرے اور اسلحہ اٹھائے اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یا جو مسلمانوں کی حکومت کے خلاف بغاوت کرے اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح جو مسلمان کو خوف زدہ کرے اور رات کو مسلمانوں کو فائرنگ کرکے ڈرائے اس کا بھی مسلمانوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
(۲) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں بھی مسلمان کی طرف اسلحہ سے اشارہ کرنے سے منع کیا ہے، مبادا شیطان وہ اسلحہ چلوا دے اور یوں یہ جہنم کے گڑھے میں جاگرے۔ (صحیح البخاري:۷۰۷۲)
(۳) جو شخص مسلمان کا ناحق قتل جائز اور حلال سمجھے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
(۱)ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص مسلمانوں سے بلا وجہ یا کسی تاویل کے بغیر لڑائی کرے اور اسلحہ اٹھائے اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یا جو مسلمانوں کی حکومت کے خلاف بغاوت کرے اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح جو مسلمان کو خوف زدہ کرے اور رات کو مسلمانوں کو فائرنگ کرکے ڈرائے اس کا بھی مسلمانوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
(۲) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں بھی مسلمان کی طرف اسلحہ سے اشارہ کرنے سے منع کیا ہے، مبادا شیطان وہ اسلحہ چلوا دے اور یوں یہ جہنم کے گڑھے میں جاگرے۔ (صحیح البخاري:۷۰۷۲)
(۳) جو شخص مسلمان کا ناحق قتل جائز اور حلال سمجھے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1281 سے ماخوذ ہے۔