حدیث نمبر: 1268
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْحَكَمِ الْقَاضِي، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَابِ الْقَصْرِ، فَرَأَى أَصْحَابَ النَّرْدِ انْطَلَقَ بِهِمْ فَعَقَلَهُمْ مِنْ غُدْوَةٍ إِلَى اللَّيْلِ، فَمِنْهُمْ مَنْ يُعْقَلُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ‏.‏ قَالَ‏:‏ وَكَانَ الَّذِي يُعْقَلُ إِلَى اللَّيْلِ هُمُ الَّذِينَ يُعَامِلُونَ بِالْوَرِقِ، وَكَانَ الَّذِي يُعْقَلُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ الَّذِينَ يَلْهُونَ بِهَا، وَكَانَ يَأْمُرُ أَنْ لا يُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ قصر کے دروازے سے نکلے تو انہوں نے شطرنج کھیلنے والوں کو دیکھا۔ وہ ان کے پاس گئے اور انہیں لے کر صبح سے رات تک قید کر دیا۔ ان میں سے کچھ کو آدھا دن قید رکھا۔ انہوں نے کہا: جنہیں رات تک باندھا وہ، وہ لوگ تھے جو پیسوں کے ساتھ معاملہ کرتے، یعنی جوا لگا کر کھیل رہے تھے، اور جنہیں آدھا دن قید کیا وہ ویسے ہی کھیلنے والے لوگ تھے، اور حکم دیتے کہ ان لوگوں کو سلام بھی نہ کہا جائے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1268
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد موقوفًا
تخریج حدیث «ضعيف الإسناد موقوفًا : أخرجه ابن أبى شيبة : 26157»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں فضیل بن مسلم راوی مجہول اور اس سے نیچے دو راوی ضعیف ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1268 سے ماخوذ ہے۔