حدیث نمبر: 1267
حَدَّثَنَا عِصَامٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ سَلْمَانَ الأَلَهَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ مَجْمَعًا مِنَ الْمُجَامِعِ، فَبَلَغَهُ أَنَّ أَقْوَامًا يَلْعَبُونَ بِالْكُوبَةِ، فَقَامَ غَضْبَانًا يَنْهَى عَنْهَا أَشَدَّ النَّهْيِ، ثُمَّ قَالَ‏:‏ أَلاَ إِنَّ اللاَّعِبَ بِهَا لَيَأْكُلُ قَمْرَهَا كَآكِلِ لَحْمِ الْخِنْزِيرِ، وَمُتَوَضِّئٍ بِالدَّمِ‏.‏ ¤ يَعْنِي بِالْكُوبَةِ‏:‏ النَّرْدَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کسی مجمعے میں تھے کہ انہیں یہ خبر پہنچی کہ کچھ لوگ کوه (طبلے یا شطرنج) سے کھیل رہے ہیں تو غضبناک ہو کر اٹھے اور بڑی سختی سے منع کیا، پھر فرمایا: خبردار! اس کے ساتھ کھیلنے والا تاکہ وہ اس کے جوئے سے کھائے، خنزیر کا گوشت کھانے والے اور اس کے خون سے وضو کرنے والے کی طرح ہے۔
کوبہ سے مراد شطرنج ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1267
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : أنظر الحديث ، رقم : 788»