حدیث نمبر: 1263
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِيِّ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مُصْعَبٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنَّا نَتَرَاهَنُ بِالْحَمَامَيْنِ، فَنَكْرَهُ أَنْ نَجْعَلَ بَيْنَهُمَا مُحَلِّلاً تَخَوُّفَ أَنْ يَذْهَبَ بِهِ الْمُحَلِّلُ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ذَلِكَ مِنْ فِعْلِ الصِّبْيَانِ، وَتُوشِكُونَ أَنْ تَتْرُكُوهُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
حصین بن مصعب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ہم دو کبوتروں کے ساتھ شرط لگا کر جوا کھیلتے ہیں، اور ہم یہ ناپسند کرتے ہیں کہ اپنے درمیان کسی تیسرے شخص کو محلل بنائیں اس ڈر سے کہ وہ محلل ہی سب کچھ نہ لے جائے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو بچوں کا کام ہے، تم اسے جلد ہی چھوڑ دو گے (جب تمہیں سمجھ آجائے گی کہ یہ گناہ ہے)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں عمر بن حمزہ راوی ضعیف اور حصین بن مصعب مجہول ہے۔ البتہ کبوتروں کواڑانے میں شرط لگانا جوا ہے جو حرام ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں عمر بن حمزہ راوی ضعیف اور حصین بن مصعب مجہول ہے۔ البتہ کبوتروں کواڑانے میں شرط لگانا جوا ہے جو حرام ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1263 سے ماخوذ ہے۔