حدیث نمبر: 1258
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُقَلِّمُ أَظَافِيرَهُ فِي كُلِّ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، وَيَسْتَحِدُّ فِي كُلِّ شَهْرٍ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے ناخن پندرہ دن بعد کاٹتے، اور زیرِ ناف بال ایک ماہ بعد مونڈتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے نہیں کرسکتے۔ مطلب یہ ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل یہ تھا۔ اگر اس سے پہلے ضرورت محسوس ہو تو جائز ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے نہیں کرسکتے۔ مطلب یہ ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل یہ تھا۔ اگر اس سے پہلے ضرورت محسوس ہو تو جائز ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1258 سے ماخوذ ہے۔