حدیث نمبر: 1256
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دُكَيْنٍ، سَمِعَ كَثِيرَ بْنَ عُبَيْدٍ قَالَ‏:‏ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِذَا وُلِدَ فِيهِمْ مَوْلُودٌ - يَعْنِي‏:‏ فِي أَهْلِهَا - لَا تَسْأَلُ‏:‏ غُلاَمًا وَلَا جَارِيَةً، تَقُولُ‏:‏ خُلِقَ سَوِيًّا‏؟‏ فَإِذَا قِيلَ‏:‏ نَعَمْ، قَالَتِ‏:‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

کثیر بن عبید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خاندان میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو وہ یہ نہیں پوچھتی تھیں کہ لڑکا ہے یا لڑکی۔ وہ پوچھتیں: بچہ صحیح سالم ہے؟ جب کہا جاتا کہ ہاں تندرست ہے، تو فرماتی تھیں: «الحمد للہ رب العالمین»۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الختان / حدیث: 1256
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد موقوفًا
تخریج حدیث «حسن الإسناد موقوفًا»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اولاد کا صحت مند ہونا اور کوئی پیدائشی معذوری نہ ہونا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔
(۲) اس سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو بیٹیوں کی ولادت پر ناخوش ہوتے ہیں اور اللہ کا شکر نہیں بجا لاتے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1256 سے ماخوذ ہے۔