حدیث نمبر: 1251
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الذَّيَّالِ، وَكَانَ صَاحِبَ حَدِيثٍ، قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ‏:‏ أَمَا تَعْجَبُونَ لِهَذَا‏؟‏ يَعْنِي‏:‏ مَالِكَ بْنَ الْمُنْذِرِ عَمَدَ إِلَى شُيُوخٍ مِنْ أَهْلِ كَسْكَرَ أَسْلَمُوا، فَفَتَّشَهُمْ فَأَمَرَ بِهِمْ فَخُتِنُوا، وَهَذَا الشِّتَاءُ، فَبَلَغَنِي أَنَّ بَعْضَهُمْ مَاتَ، وَلَقَدْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّومِيُّ وَالْحَبَشِيُّ فَمَا فُتِّشُوا عَنْ شَيْءٍ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ کیا آپ ان مالک بن منذر پر تعجب نہیں کرتے کہ وہ روم کے عمر رسیدہ نومسلم کاشتکاروں کو تلاش کرنے کے لیے گئے اور ان کا معائنہ کر کے حکم دیا کہ ان کے ختنے کیے جائیں حالانکہ سردی ہے (اور زخم بھی تکلیف دیتا ہے)، مجھے پتہ چلا کہ ان میں سے بعض لوگ مر بھی گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رومی اور حبشی مسلمان ہوئے تو ان کی کسی چیز کی تلاشی نہیں لی گئی (کہ ان کا ختنہ ہوا یا نہیں)۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الختان / حدیث: 1251
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوفًا و مرسلًا و رواه الخلال من طريق أحمد بسنده الصحيح عن الحسن
تخریج حدیث «صحيح الإسناد موقوفًا و مرسلًا و رواه الخلال من طريق أحمد بسنده الصحيح عن الحسن : 197/150»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
حسن بصری رحمہ اللہ کا مقصد اگر یہ ہو کہ کوئی مختون ہے یا نہیں۔ اس کو اہمیت نہیں دینی چاہیے تو ان کا یہ موقف درست نہیں کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نو مسلموں کو ختنہ کروانے اور بال کٹوانے کا حکم دیا ہے۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاش کرکے لوگوں کی تفتیش نہیں لیکن حاکم وقت اگر سمجھے کہ لوگ اس میں غفلت کر رہے ہیں تو وہ تفتیش کرسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1251 سے ماخوذ ہے۔