حدیث نمبر: 1250
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمِئَةٍ، ثُمَّ عَاشَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَمَانِينَ سَنَةً‏.‏ ¤ قَالَ سَعِيدٌ: إِبْرَاهِيمُ أَوَّلُ مَنِ اخْتَتَنَ، وَأَوَّلُ مَنْ أَضَافَ، وَأَوَّلُ مَنْ قَصَّ الشَّارِبَ، وَأَوَّلُ مَنْ قَصَّ الظُّفُرَ، وَأَوَّلُ مَنْ شَابَ، فَقَالَ: يَا رَبِّ، مَا هَذَا؟ قَالَ: ”وَقَارٌ“، قَالَ: يَا رَبِّ، زِدْنِي وَقَارًا.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ختنے کیے جبکہ ان کی عمر ایک سو بیس سال تھی، پھر اس کے بعد اسّی سال تک زندہ رہے۔
سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا ابراہیم علیہ السلام پہلے شخص ہیں جنہوں نے ختنے کیے، سب سے پہلے مہمانی بھی انہوں نے کی۔ اسی طرح مونچھیں اور ناخن بھی سب سے پہلے انہوں نے کاٹے، اور سب سے پہلے انہی کے بال سفید ہوئے تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! یہ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یہ وقار ہے۔“ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! میرے وقار میں اضافہ فرما۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الختان / حدیث: 1250
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوفًا و مقطوعًا
تخریج حدیث «صحيح الإسناد موقوفًا و مقطوعًا : أخرجه ابن أبى شيبة فى الأدب : 184 ، 185 و البيهقي فى شعب الإيمان : 8640»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)صحیح یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسی سال کی عمر میں خود ہی ختنہ کیا جیسا چند صفحات قبل یہ صراحت گزر چکی ہے۔
(۲) بڑھا پاوقار ہے، اس لیے سفید بالوں کو کالا کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ یہودیوں کی مخالفت میں کالے کے علاوہ کوئی اور رنگ لگانا چاہیے۔
(۳) مونچھیں پست رکھنا اور ناخن ترواشنا فطری امور سے ہیں۔ نیز بڑھاپے کے سفید بالوں کو نوچنا بھی ناجائز ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1250 سے ماخوذ ہے۔