حدیث نمبر: 1249
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَتْنَا عَجُوزٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ جَدَّةُ عَلِيِّ بْنِ غُرَابٍ قَالَتْ‏:‏ حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْمُهَاجِرِ قَالَتْ‏:‏ سُبِيتُ وَجَوَارِي مِنَ الرُّومِ، فَعَرَضَ عَلَيْنَا عُثْمَانُ الإِسْلاَمَ، فَلَمْ يُسْلِمْ مِنَّا غَيْرِي وَغَيْرُ أُخْرَى، فَقَالَ‏:‏ اخْفِضُوهُمَا، وَطَهِّرُوهُمَا فَكُنْتُ أَخْدُمُ عُثْمَانَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ام مہاجر رحمہا اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: میں اور کچھ لونڈیاں قیدی بنا کر روم سے لائی گئیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ہمیں اسلام کی دعوت دی۔ چنانچہ میرے اور ایک دوسری عورت کے سوا کسی نے اسلام قبول نہ کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان دونوں کے ختنے کراؤ اور انہیں پاک کرو۔ پھر میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت کرتی تھی۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الختان / حدیث: 1249
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : أنظر الحديث ، رقم : 1245»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ روایت پہلے رقم (۱۲۴۵)کے تحت گزر چکی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1249 سے ماخوذ ہے۔