الادب المفرد
كتاب البهائم— كتاب البهائم
بَابُ نُبَاحِ الْكَلْبِ وَنَهِيقِ الْحِمَارِ باب: کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کے وقت کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 1233
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”أَقِلُّوا الْخُرُوجَ بَعْدَ هُدُوءٍ، فَإِنَّ لِلَّهِ دَوَابَّ يَبُثُّهُنَّ، فَمَنْ سَمِعَ نُبَاحَ الْكَلْبِ، أَوْ نُهَاقَ حِمَارٍ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، فَإِنَّهُمْ يَرَوْنَ مَا لا تَرَوْنَ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کو جب سکون ہو جائے تو گھروں سے نکلنا کم کر دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے جانور ہیں جنہیں وہ (رات کو) زمین میں پھیلا دیتا ہے۔ جو کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کی آواز سنے تو وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے شیطان مردود کے شر سے، کیونکہ جو وہ دیکھتے ہیں تم نہیں دیکھ پاتے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
گدھا یا کتا شیطان کو دیکھ کر آواز نکالتے ہیں جیسا کہ احادیث میں صراحت ہے۔ مسلمان کو شیطان کے نقصان اور وسوسے کا خطرہ رہتا ہے اس لیے اسے فوراً اللہ کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ نیز رات کو بلاوجہ گھر سے نہیں نکلنا چاہیے کیونکہ موذی جانوروں وغیرہ کے نقصان پہنچانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
گدھا یا کتا شیطان کو دیکھ کر آواز نکالتے ہیں جیسا کہ احادیث میں صراحت ہے۔ مسلمان کو شیطان کے نقصان اور وسوسے کا خطرہ رہتا ہے اس لیے اسے فوراً اللہ کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ نیز رات کو بلاوجہ گھر سے نہیں نکلنا چاہیے کیونکہ موذی جانوروں وغیرہ کے نقصان پہنچانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1233 سے ماخوذ ہے۔