الادب المفرد
كتاب البهائم— كتاب البهائم
بَابُ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ باب: جانوروں کو لڑانے کے لیے ابھارنا
حدیث نمبر: 1232
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُحَرِّشَ بَيْنَ الْبَهَائِمِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے جانوروں کو آپس میں لڑانے کو ناپسند کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)یہ حدیث مرفوعاً بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع کیا ہے۔ (ابي داود)
جب جانوروں کو لڑائی پر ابھارنا منع ہے تو لوگوں کو اور خصوصاً مسلمانوں کو آپس میں لڑانا کتنا سنگین جرم ہوگا۔
(۲) عصر حاضر میں کتوں، مرغوں کی لڑائیاں بھی ممنوع اور فضول کام ہیں جن سے اجتناب ضروری ہے۔
(۱)یہ حدیث مرفوعاً بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع کیا ہے۔ (ابي داود)
جب جانوروں کو لڑائی پر ابھارنا منع ہے تو لوگوں کو اور خصوصاً مسلمانوں کو آپس میں لڑانا کتنا سنگین جرم ہوگا۔
(۲) عصر حاضر میں کتوں، مرغوں کی لڑائیاں بھی ممنوع اور فضول کام ہیں جن سے اجتناب ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1232 سے ماخوذ ہے۔