الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ ضَمِّ الصِّبْيَانِ عِنْدَ فَوْرَةِ الْعِشَاءِ باب: شام ہوتے ہی بچوں کو اپنے پاس بلا لینا
حدیث نمبر: 1231
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”كُفُوًا صِبْيَانَكُمْ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ، أَوْ فَوْرَةُ، الْعِشَاءِ، سَاعَةَ تَهَبُّ الشَّيَاطِينُ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بچوں کو اپنے پاس روک لو یہاں تک کہ شام کا ابتدائی وقت گزر جائے۔ یہ وقت ہے جب شیاطین پھیلتے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
بچوں کو روکنے کا حکم شام کے ابتدائی حصے کے ساتھ خاص ہے، قدرے اندھیرا ہو جانے پر ان کا نکلنا جائز ہے۔
بچوں کو روکنے کا حکم شام کے ابتدائی حصے کے ساتھ خاص ہے، قدرے اندھیرا ہو جانے پر ان کا نکلنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1231 سے ماخوذ ہے۔