حدیث نمبر: 1230
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”إِيَّاكُمْ وَالسَّمَرَ بَعْدَ هُدُوءِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَ يَدْرِي مَا يَبُثُّ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ، غَلِّقُوا الأَبْوَابَ، وَأَوْكُوا السِّقَاءَ، وَأَكْفِئُوا الإِنَاءَ، وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات کو سکون ہو جائے تو چلنا پھرنا کم کر دو، کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اپنی کون کون سی مخلوق پھیلاتا ہے۔ دروازے بند کر دو اور مشکیزوں کے منہ بند کر دو، برتن ڈھانپ دو اور چراغ بجھا دو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1230
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه الحاكم : 284/4 - أنظر الصحيحة : 1752»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اصل میں متن ایاکم والسمر ہے۔ سمر کے معنی رات کو گفتگو کرنا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الادب المفرد میں فرمایا ہے کہ شاید یہ ابن عجلان کا وہم ہے۔ سیاق سے معلوم ہے کہ یہ السیر ہے اور آئندہ صریح روایات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، اس لیے ہم نے سیر والا ترجمہ کیا ہے۔
(۲) رات کو دروازے بند کرکے سونا چاہیے تاکہ شیطان کوئی نقصان نہ پہنچائے اور بند کرتے وقت بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔ لاکر وغیرہ بھی بسم اللہ پڑھ کر بند کرنے چاہئیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1230 سے ماخوذ ہے۔