الادب المفرد
كتاب الجار— كتاب الجار
بَابُ لاَ تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنُ شَاةٍ باب: کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے ہدیے کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا کھر ہی ہو
حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ، يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ، لاَ تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنُ شَاةٍ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مسلمان عورتو! اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے (ہدیہ دینا یا لینا) حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا کھر ہی ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالا اور اس حدیث کے دو مفہوم ہیں:کوئی عورت کسی کے دیے ہوئے ہدیے اور تحفے کو حقیر نہ سمجھے، خواہ وہ معمولی ہی ہو کیونکہ اس سے دینے والی پڑوسن کی دل آزاری ہوگی۔ کوئی عورت یہ نہ سوچے کہ زیادہ ہوگا تو تحفہ دوں گی کیونکہ اس طرح اسے تحفہ دینے کا بہت کم موقع ملے گا اور نہ دینے کی عادت پختہ ہو جائے گی۔ اسے چاہیے کہ اگر معمولی چیز ہے تو وہی بطور تحفہ دے دے۔ اس طرح اسے امور خیر بجا لانے کی عادت پختہ ہو جائے گی اور جب زیادہ میسر ہوا تو دینا آسان ہوگا۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ تھوڑا تھوڑا مل کر بہت بن جاتا ہے۔
مذکورہ بالا اور اس حدیث کے دو مفہوم ہیں:کوئی عورت کسی کے دیے ہوئے ہدیے اور تحفے کو حقیر نہ سمجھے، خواہ وہ معمولی ہی ہو کیونکہ اس سے دینے والی پڑوسن کی دل آزاری ہوگی۔ کوئی عورت یہ نہ سوچے کہ زیادہ ہوگا تو تحفہ دوں گی کیونکہ اس طرح اسے تحفہ دینے کا بہت کم موقع ملے گا اور نہ دینے کی عادت پختہ ہو جائے گی۔ اسے چاہیے کہ اگر معمولی چیز ہے تو وہی بطور تحفہ دے دے۔ اس طرح اسے امور خیر بجا لانے کی عادت پختہ ہو جائے گی اور جب زیادہ میسر ہوا تو دینا آسان ہوگا۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ تھوڑا تھوڑا مل کر بہت بن جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 123 سے ماخوذ ہے۔