حدیث نمبر: 1228
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَطَرَتِ السَّمَاءُ يَقُولُ‏:‏ يَا جَارِيَةُ، أَخْرِجِي سَرْجِي، أَخْرِجِي ثِيَابِي، وَيَقُولُ‏:‏ ﴿‏وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا‏﴾ [ق: 9].
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب بارش نازل ہوتی تو وہ فرماتے: اے لڑکی! میری زین اور کپڑے باہر رکھ دو اور فرماتے: (ارشادِ باری تعالیٰ ہے): ”اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا۔“ [سورہ ق: 9]

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1228
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوفًا
تخریج حدیث «صحيح الإسناد موقوفًا : أخرجه ابن أبى شيبة : 26176»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
گزشتہ اوراق میں حدیث ۵۷۱ کے تحت گزر چکا ہے کہ جب بارش ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قمیص وغیرہ اتار دیتے تاکہ جسم پر براہ راست بارش پڑے۔ صحابہ کرام کہتے ہیں ہم نے عرض کیا:آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا:’’کیونکہ یہ اپنے رب کے پاس سے نئی نئی آتی ہے۔‘‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع میں ایسا کرتے۔ اس لیے بارش کا پانی بابرکت ہے۔ اس سے تبرک لیا جاسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1228 سے ماخوذ ہے۔