حدیث نمبر: 1227
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ‏:‏ احْتَرَقَ بِالْمَدِينَةِ بَيْتٌ عَلَى أَهْلِهِ مِنَ اللَّيْلِ، فَحُدِّثَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ‏:‏ ”إِنَّ هَذِهِ النَّارَ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مدینہ طیبہ میں رات کو ایک گھر، اہلِ خانہ سمیت جل گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ تمہاری دشمن ہے، لہٰذا جب تم سونے لگو تو اس کو بجھا دیا کرو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1227
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الاستئذان : 6294 و مسلم : 2016 و ابن ماجه : 3770»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
ان روایات سے معلوم ہوا کہ ہر طرح کی آگ بجھا کر سونا چاہیے خواہ ظاہری خطرہ نہ ہو کیونکہ کسی بھی وقت کوئی مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1227 سے ماخوذ ہے۔