حدیث نمبر: 1220
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ بَاتَ وَبِيَدِهِ غَمَرٌ، فَأَصَابَهُ شَيْءٌ، فَلا يَلُومَنَّ إِلا نَفْسَهُ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رات کو چکناہٹ والے ہاتھ سے سویا اور پھر اسے کوئی چیز کاٹ گئی تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
ان روایات سے معلوم ہوا کہ رات کو سونے سے پہلے اگر ہاتھوں میں چکناہٹ وغیرہ ہو تو انہیں دھو لینا چاہیے تاکہ کھانے کی بو پر کوئی موذی چیز نقصان نہ پہنچائے۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ رات کو سونے سے پہلے اگر ہاتھوں میں چکناہٹ وغیرہ ہو تو انہیں دھو لینا چاہیے تاکہ کھانے کی بو پر کوئی موذی چیز نقصان نہ پہنچائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1220 سے ماخوذ ہے۔