حدیث نمبر: 1218
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُعْطِيهِ وَضُوءَهُ، قَالَ: فَأَسْمَعُهُ الْهَوِيَّ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ: ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“، وَأَسْمَعُهُ الْهَوِيَّ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ: ”الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے کے پاس رات گزارتا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کے لیے پانی وغیرہ دے سکوں۔ میں رات کو دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”سمع الله لمن حمدہ“ کہتے ہوئے سنتا اور دیر تک سنتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”الحمد للہ رب العالمین“ فرما رہے ہوتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ رات اکثر وقت اللہ کی تعریف اور اس کے ذکر میں گزارتے۔ گویا جب بھی آنکھ کھلتی اللہ سے خیر طلب کرتے۔
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ رات اکثر وقت اللہ کی تعریف اور اس کے ذکر میں گزارتے۔ گویا جب بھی آنکھ کھلتی اللہ سے خیر طلب کرتے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1218 سے ماخوذ ہے۔