حدیث نمبر: 1217
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏: ”إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ، فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ وَلْيُسَمِّ اللَّهَ، فَإِنَّهُ لاَ يَعْلَمُ مَا خَلَّفَهُ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْطَجِعَ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ وَلْيَقُلْ‏:‏ سُبْحَانَكَ رَبِّي، بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی بستر پر جائے تو ازار بند کے اندرون حصہ کا پلو لے کر اس سے بستر کو جھاڑ لے، اور بسم اللہ پڑھے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے بعد بستر پر کیا چیز آئی، پھر جب لیٹنے کا ارادہ کرے تو دائیں پہلو پر لیٹے اور یہ دعا پڑھے: اے میرے رب! تو پاک ہے، تیرے (نام کے) ساتھ میں نے اپنا پہلو رکھا، اور تیری توفیق ہی سے اٹھاؤں گا۔ اگر تو میری جان قبض کر لے تو اسے بخش دینا، اور اگر اسے چھوڑے تو اس کی اس طرح حفاظت کرنا جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1217
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أنظر الحديث ، رقم : 1210»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)مقصد یہ ہے کہ بستر بچھائے ہوئے دیر ہوگئی ہو یا اندھیرا ہو تو بستر کو جھاڑ کر سونا چاہیے ممکن ہے کہ کوئی موذی چیز اس پر آگئی ہو۔ خصوصاً رات کو اٹھ کر واپس آنے پر بستر ضرور جھاڑنا چاہیے۔
(۲) اس سے معلوم ہوا موذی اور نقصان دہ چیزوں سے بچنا چاہیے اور یہ توکل کے منافى نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1217 سے ماخوذ ہے۔