حدیث نمبر: 121
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏: ”لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لاَ يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کی شرارتوں سے اس کے ہمسائے بے خوف (محفوظ) نہیں۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الجار / حدیث: 121
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب الإيمان ، باب تحريم إيذاء الجار : 46 و الحاكم فى المستدرك : 10/1 و أحمد : 373/2»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)’’جنت میں داخل نہیں ہوگا‘‘ اگر وہ پڑوسی کو تکلیف دینا حلال سمجھتا ہوگا جبکہ اس کی حرمت کا اسے علم بھی ہو تو کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا کیونکہ اس نے اللہ کے حرام کردہ کام کو حلال سمجھا جو کہ کفر ہے۔ اور اگر حرام سمجھتے ہوئے کیا تو پھر شروع میں داخل نہیں ہوسکے گا، البتہ سزا بھگتنے کے بعد جنت میں چلا جائے گا۔ یا اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے معاف کر دے تو دوسری بات ہے۔ (شرح ادب المفرد، حسین العودة)
(۲) ’’بے خوف نہیں۔‘‘ بلکہ ہر وقت اس سے دہشت زدہ رہتے ہیں، اور اس خوف میں مبتلا رہتے کہ نہ جانے کب وہ ان پر ظلم کر دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسا شخص اگر ہاتھ یا زبان سے تکلیف نہ بھی دے تب بھی اپنی دہشت گردی اور برے رویے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا اور جنت سے محروم رہے گا۔ کیونکہ اس شخص کی وجہ سے اس کے ہمسائے چوبیس گھنٹے اذیت میں مبتلا ہیں۔ ایک حدیث میں ایسے شخص کے ایمان کی نفي کی گئی ہے۔ (صحیح البخاري، حدیث:۶۰۱۶)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 121 سے ماخوذ ہے۔