حدیث نمبر: 1207
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالاَ‏:‏ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ‏:‏ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ‏: ﴿الم تَنْزِيلُ‏﴾ [سورة السجدة]‏ وَ‏: ﴿‏تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ [سورة الملك]. قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَهُمَا يَفْضُلانِ كُلَّ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ بِسَبْعِينَ حَسَنَةً، وَمَنْ قَرَأَهُمَا كُتِبَ لَهُ بِهِمَا سَبْعُونَ حَسَنَةً، وَرُفِعَ بِهِمَا لَهُ سَبْعُونَ دَرَجَةً، وَحُطَّ بِهِمَا عَنْهُ سَبْعُونَ خَطِيئَةً.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے سورہ سجدہ اور سورہ ملک کی تلاوت ضرور کرتے تھے। ابو زبیر کہتے ہیں کہ یہ سورتیں قرآن مجید کی ہر سورت سے ستر نیکیاں زیادہ فضیلت رکھتی ہیں، جس نے ان دونوں کو پڑھا اس کے لیے ستر نیکیوں کا حساب لکھا جائے گا، اور ان کے ساتھ اس کے ستر درجے بلند کیے جائیں گے، اور ان کے ذریعے ان کی ستر برائیاں مٹا دی جائیں گی۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1207
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: (في قول أبى الزبير) صحيح من قول أبى الزبير فهو مقطوع موقوف
تخریج حدیث «(في قول أبى الزبير) صحيح من قول أبى الزبير فهو مقطوع موقوف : أخرجه الترمذي ، كتاب فضائل القرآن : 2892 و النسائي فى الكبرىٰ : 10474 - أنظر الصحيحة : 585»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
بعض روایات میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ بقرہ کو افضل قرار دیا گیا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مطلق طور پر سورۂ بقرہ افضل ہے، تاہم بعض خصوصیات ان سورتوں کی افضل ہیں۔ افضلیت کے معنی یہ ہیں کہ بعض سورتوں کا ثواب بعض دوسری سورتوں سے زیادہ ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1207 سے ماخوذ ہے۔