حدیث نمبر: 1205
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالاَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ‏:‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَالَ‏:‏ ”بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا“، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ قَالَ‏:‏ ”الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: ”تیرے نام کے ساتھ اے اللہ میں مرتا اور زندہ ہوتا ہوں۔“ اور جب نیند سے بیدار ہوتے تو کہتے: ”تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مرنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1205
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الدعوات : 6312 و أبوداؤد : 5049 و الترمذي : 3417 و النسائي : 4140 و ابن ماجه : 3880»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)نیند موت کی بہن ہے۔ اس میں بھی روح کا تعلق جسم سے معطل ہو جاتا ہے اور اس کا شمار مردوں میں ہوتا ہے۔ اس لیے روح کی صحیح سالم واپسی پر اللہ تعالیٰ کاشکر بجا لانا چاہیے۔
(۲) نیند کے وقت ذکر الٰہی کا مطلب ہے کہ بندہ اپنے رب کے پاس جانے کے لیے تیار ہے کیونکہ عین ممکن ہے روح واپس نہ آئے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1205 سے ماخوذ ہے۔