حدیث نمبر: 1204
حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ‏:‏ أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو فَقُلْتُ لَهُ‏:‏ حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى إِلَيَّ صَحِيفَةً فَقَالَ‏:‏ هَذَا مَا كَتَبَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ فِيهَا، فَإِذَا فِيهَا‏:‏ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، عَلِّمْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ، فَقَالَ‏:‏ ”يَا أَبَا بَكْرٍ، قُلِ‏:‏ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرُّهُ إِلَى مُسْلِمٍ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ابو راشد جبرانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کریں، انہوں نے مجھے ایک صحیفہ تھماتے ہوئے فرمایا: یہ وہ صحیفہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ کر دیا۔ میں نے اسے دیکھا تو اس میں تھا: بلا شبہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھائیں جو صبح و شام پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو بکر! تم پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ ...... »اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کو جاننے والے، ہر چیز کے رب اور مالک، میں تجھ سے اپنے نفس کے شر اور شیطان کے شر اور شرک سے پناہ مانگتا ہوں۔ اور اس بات سے کہ میں اپنی جان کے بارے میں بے جا حرکت کروں یا کسی مسلمان کو تکلیف پہنچاؤں۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الصباح والمساء / حدیث: 1204
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه الترمذي ، كتاب الدعوات : 3529 - أنظر الصحيحة : 2763»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ میں کوئی ایسا کام کروں جس کا برا انجام مجھے دنیا یا آخرت میں بھگتنا پڑے یا میں کسی مسلمان پر ظلم کروں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1204 سے ماخوذ ہے۔