الادب المفرد
كتاب الصباح والمساء— كتاب الصباح والمساء
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَمْسَى باب: شام کے وقت کیا دعا کرے
حدیث نمبر: 1203
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ. وَقَالَ: ”رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ“، وَقَالَ: ”شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پہلی حدیث کی طرح روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کے رب اور مالک۔“ نیز فرمایا: ”شیطان کے شر اور اس کے شرک سے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
ان روایات میں اس بات کا اقرار ہے کہ عالم الغیب ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، نیز معلوم ہوا کہ شیطان انسان کو شرک و کفر کی طرف لے جاتا ہے۔ ہشیم کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی شعبہ کی روایت میں الفاظ کا کچھ فرق ہے۔ جس کی کچھ تفصیل فضل اللہ الصمد میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ان روایات میں اس بات کا اقرار ہے کہ عالم الغیب ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، نیز معلوم ہوا کہ شیطان انسان کو شرک و کفر کی طرف لے جاتا ہے۔ ہشیم کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی شعبہ کی روایت میں الفاظ کا کچھ فرق ہے۔ جس کی کچھ تفصیل فضل اللہ الصمد میں دیکھی جا سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1203 سے ماخوذ ہے۔