الادب المفرد
كتاب الصباح والمساء— كتاب الصباح والمساء
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ باب: صبح کے وقت کیا دعا پڑھے
حدیث نمبر: 1199
حَدَّثَنَا مُعَلَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ: ”اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ“، وَإِذَا أَمْسَى قَالَ: ”اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا ...... »اے اللہ! ہم نے تیرے فضل سے ہی صبح کی اور تیرے فضل سے ہی شام کی ہے۔ تیرے ہی فضل سے زندہ اور تیرے نام پر مرتے ہیں، نیز تیری طرف ہی اٹھ کر جانا ہے۔“ اور جب شام کرتے تو فرماتے: ”اے اللہ! ہم نے تیرے ہی فضل سے شام کی، اور تیرے ہی فضل سے صبح کی، اور تیرے ہی فضل سے ہم زندہ اور تیرے نام پر مرتے ہیں، اور تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
انسان کے صبح و شام اللہ تعالیٰ کے مرہون منت ہیں۔ اللہ کے فضل و احسان کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔ زندگی اور موت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ صبح و شام اس عقیدے کا اظہار کرکے اپنی بے بسی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا اقرار کرے۔
انسان کے صبح و شام اللہ تعالیٰ کے مرہون منت ہیں۔ اللہ کے فضل و احسان کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔ زندگی اور موت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ صبح و شام اس عقیدے کا اظہار کرکے اپنی بے بسی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا اقرار کرے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1199 سے ماخوذ ہے۔