الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ: هَلْ يُدْلِي رِجْلَيْهِ إِذَا جَلَسَ؟ باب: کیا بیٹھے ہوئے ٹانگیں لٹکا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1195
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيُّ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي حَائِطٍ عَلَى قُفِّ الْبِئْرِ، مُدَلِّيًا رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں کنویں کی منڈیر پر پاؤں کنویں میں لٹکا کر بیٹھے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس حدیث کی وضاحت گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر بیٹھنے والی جگہ ایسی ہو کہ ٹانگیں لٹکا کر بیٹھنا آسان ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ مروت کے خلاف نہیں ہے۔
اس حدیث کی وضاحت گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر بیٹھنے والی جگہ ایسی ہو کہ ٹانگیں لٹکا کر بیٹھنا آسان ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ مروت کے خلاف نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1195 سے ماخوذ ہے۔