حدیث نمبر: 1194
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏: ”مَنْ بَاتَ عَلَى إِنْجَارٍ فَوَقَعَ مِنْهُ فَمَاتَ، بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ حِينَ يَرْتَجُّ - يَعْنِي‏:‏ يَغْتَلِمُ - فَهَلَكَ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھلی چھت پر رات گزاری اور اس سے گر کر مرگیا تو اس کی ذمہ داری نہیں۔ اور جس شخص نے سمندر کی طغیانی کے وقت اس میں سفر کیا اور ہلاک ہو گیا تو اس کا بھی کوئی ذمہ نہیں۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1194
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه البخاري فى التاريخ الكبير : 426/3 و أحمد : 20749 - أنظر الصحيحة : 828»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
چھت کے اوپر چار دیواری اور پردے بنانا ضروری ہیں تاکہ گرنے کا خدشہ نہ ہو ورنہ ایسی چھت پر سونے سے گریز کرنا چاہیے۔ اسی طرح سمندر جب ایام بیض میں یا کسی اور وجہ سے طغیانی پر ہو تو اس میں سفر سے گریز کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1194 سے ماخوذ ہے۔