الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ مَنْ بَاتَ عَلَى سَطْحٍ لَيْسَ لَهُ سُتْرَةٌ باب: بغیر چار دیواری والی چھت پر سونے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1192
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ هُوَ ابْنُ جَابِرٍ - عَنْ وَعْلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ عَلَيْهِ حِجَابٌ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ.“ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: فِي إِسْنَادِهِ نَظَرٌ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا علی بن شیبان یمامی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رات کو ایسے گھر کی چھت پر سویا جس پر پردہ اور رکاوٹ نہ ہو تو اس کی (اللہ تعالیٰ پر) کوئی ذمہ داری نہیں۔“ ابو عبداللہ کہتے ہیں: اس کی سند محل نظر ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ بندہ مومن اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ہوتا ہے اور اس ذات عالی کا تمام لوگوں سے وعدہ ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرے۔ بشرطیکہ بندے خود اس عہد کو نہ توڑیں۔ جو شخص ننگی چھت پر سوئے جبکہ کوئی پردہ بھی نہ ہو تو ایسا شخص اگر رات کو چھت سے گر جائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے اس لیے کہ عین ممکن ہے رات کو سوئے میں انسان اٹھ کر جائے اور اس کی توجہ ہی نہ ہو کہ وہ چھت پر سویا ہے اور گر جائے۔ اس لیے ننگی چھت پر سونا درست نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ بندہ مومن اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ہوتا ہے اور اس ذات عالی کا تمام لوگوں سے وعدہ ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرے۔ بشرطیکہ بندے خود اس عہد کو نہ توڑیں۔ جو شخص ننگی چھت پر سوئے جبکہ کوئی پردہ بھی نہ ہو تو ایسا شخص اگر رات کو چھت سے گر جائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے اس لیے کہ عین ممکن ہے رات کو سوئے میں انسان اٹھ کر جائے اور اس کی توجہ ہی نہ ہو کہ وہ چھت پر سویا ہے اور گر جائے۔ اس لیے ننگی چھت پر سونا درست نہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1192 سے ماخوذ ہے۔