الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ : أَيْنَ يَضَعُ نَعْلَيْهِ إِذَا جَلَسَ؟ باب: جب بیٹھے تو جوتے کہاں رکھے؟
حدیث نمبر: 1190
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَارُونَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ نَهِيكٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْلَعَ نَعْلَيْهِ، فَيَضَعُهُمَا إِلَى جَنْبِهِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں: سنت یہ ہے کہ جب آدمی بیٹھے تو اپنے جوتے اتار کر اپنے پہلو میں رکھ لے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ تاہم حسب ضرورت و موقع جوتے پہلو میں رکھے جاسکتے ہیں لیکن اسے سنت کہنا درست نہیں۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ تاہم حسب ضرورت و موقع جوتے پہلو میں رکھے جاسکتے ہیں لیکن اسے سنت کہنا درست نہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1190 سے ماخوذ ہے۔