حدیث نمبر: 1187
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُوسَى بْنِ خَلَفٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ ابْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، قَالَ‏:‏ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، أَتَانِي آتٍ وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى بَطْنِي، فَحَرَّكَنِي بِرِجْلِهِ فَقَالَ‏: ”قُمْ، هَذِهِ ضَجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ“، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا طخفہ بن قیس غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ اصحابِ صفہ میں سے تھے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رات کے آخری پہر مسجد میں سویا ہوا تھا۔ میرے پاس کوئی آنے والا آیا جبکہ میں پیٹ کے بل الٹا سویا ہوا تھا، اس نے مجھے اپنے پاؤں سے ہلایا اور فرمایا: ”اٹهو، اس طرح سونے کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔“ چنانچہ میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے سر پر کھڑے ہیں۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1187
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب ، باب فى الرجل ينبطح على بطنه : 5040 ابن ماجه : 3723»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ الٹا سونا منع ہے اور ایسی حالت اللہ تعالیٰ کو نہایت مبغوض ہے اور بعض روایات میں ہے کہ اہل جہنم کے لیٹنے کا یہ انداز ہے۔ (سنن ابن ماجة، الادب، حدیث:۳۷۲۴)
(۲) محبت کرنا اور بغض رکھنا اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ ان کی تاویل کی ضرورت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے اسی طرح ہیں جس طرح اس کی شان کے لائق ہیں۔
(۳) استاد یا والد اپنے شاگرد یا اولاد پر سختی کرسکتے ہیں تاکہ بچے خلاف سنت سے اجتناب کریں، نیز استاد کو چاہیے کہ وہ رات کے وقت اپنے شاگردوں کی خبر گیری رکھے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1187 سے ماخوذ ہے۔