حدیث نمبر: 1185
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُهُ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: رَأَيْتُهُ - قُلْتُ لِابْنِ عُيَيْنَةَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ مُسْتَلْقِيًا، وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چت لیٹے دیکھا، اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھا ہوا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انداز سے لیٹنے سے منع فرمایا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے ان روایات کے درمیان یوں تطبیق دی ہے کہ منع اس صورت میں ہے جب ستر کھلنے کا خدشہ ہو اور اگر انسان محتاط ہو اور کسی قسم کی بے پردگی کا خدشہ نہ ہو تو اس طرح لیٹنا جائز ہے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ نہی کراہت کے لیے اور آپ کا فعل بیان جواز کے لیے ہے کہ ضرورت کے وقت جبکہ ستر کھلنے کا اندیشہ نہ ہو اس طرح چت لیٹنا اور ایک پاؤں دوسرے پر رکھنا جائز ہے، تاہم بہتر اور افضل یہی ہے کہ یہ انداز اختیار نہ کیا جائے۔ (شرح صحیح الادب المفرد)
بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انداز سے لیٹنے سے منع فرمایا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے ان روایات کے درمیان یوں تطبیق دی ہے کہ منع اس صورت میں ہے جب ستر کھلنے کا خدشہ ہو اور اگر انسان محتاط ہو اور کسی قسم کی بے پردگی کا خدشہ نہ ہو تو اس طرح لیٹنا جائز ہے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ نہی کراہت کے لیے اور آپ کا فعل بیان جواز کے لیے ہے کہ ضرورت کے وقت جبکہ ستر کھلنے کا اندیشہ نہ ہو اس طرح چت لیٹنا اور ایک پاؤں دوسرے پر رکھنا جائز ہے، تاہم بہتر اور افضل یہی ہے کہ یہ انداز اختیار نہ کیا جائے۔ (شرح صحیح الادب المفرد)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1185 سے ماخوذ ہے۔