حدیث نمبر: 1179
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ذَيَّالُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ، حَدَّثَنِي جَدِّي حَنْظَلَةُ بْنُ حِذْيَمٍ قَالَ‏:‏ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ جَالِسًا مُتَرَبِّعًا‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار زانو بیٹھے ہوئے ہیں۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1179
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه الطبراني فى الكبير : 13/4 و ابن قانع فى معجم الصحابة ، ص : 204 - أنظر الصحيحة : 2954»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)بعض نسخوں میں اس روایت کو ذیال بن عبید کی مسند بنایا گیا ہے جیسا کہ وہ صحابی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ وہاں سند میں لفظ عن غالباً رہ گیا ہے کیونکہ ذیال اپنے دادا حنظلہ سے روایت کرتے ہیں جیسا کہ المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے۔ (المعجم الکبیر ۴؍۱۳، حدیث:۳۴۹۴)
(۲) اس سے معلوم ہوا کہ آلتی پالتی مار کر چار زانو بیٹھنا جائز ہے بلکہ ایک روایت میں ہے کہ آپ نماز فجر سے فارغ ہوکر بھی اس طرح بیٹھ جاتے تھے اور سور طلوع ہونے تک بیٹھے رہتے۔ (سنن ابي داود، الصحیحة للالباني:۲۹۵۴)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1179 سے ماخوذ ہے۔