حدیث نمبر: 1178
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتَايَ صَفِيَّةُ بِنْتُ عُلَيْبَةَ، وَدُحَيْبَةُ بِنْتُ عُلَيْبَةَ، وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْ قَيْلَةَ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَتْهُمَا قَيْلَةُ قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا الْقُرْفُصَاءَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ النَّبِيَّ الْمُتَخَشِّعَ فِي الْجِلْسَةِ أُرْعِدْتُ مِنَ الْفَرَقِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ قیلہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھوں سے گوٹ مار کر اکڑوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس متواضعانہ حالت میں بیٹھے دیکھا تو میں ڈر کے مارے کانپ گئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
کپڑے کے ساتھ گوٹ مارنا احتباء کہلاتا ہے اور ہاتھوں کے ساتھ گوٹ مارنے کو قرفصاء کہتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ سرینوں پر بیٹھ کر دونوں گھٹنے کھڑے کرکے دونوں ہاتھوں سے پنڈلیوں کو پکڑ لینا یا دونوں گھٹنے کھڑے کرکے سر ان پر جھکا لینا اور ہاتھ پنڈلیوں کے آگے اکٹھے کرلینا تاکہ انسان گرنے سے محفوظ رہے۔ یہ حالت نہایت عاجزانہ ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح بیٹھنا آپ کی تواضع اور عجز و انکسار کی دلیل ہے۔
کپڑے کے ساتھ گوٹ مارنا احتباء کہلاتا ہے اور ہاتھوں کے ساتھ گوٹ مارنے کو قرفصاء کہتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ سرینوں پر بیٹھ کر دونوں گھٹنے کھڑے کرکے دونوں ہاتھوں سے پنڈلیوں کو پکڑ لینا یا دونوں گھٹنے کھڑے کرکے سر ان پر جھکا لینا اور ہاتھ پنڈلیوں کے آگے اکٹھے کرلینا تاکہ انسان گرنے سے محفوظ رہے۔ یہ حالت نہایت عاجزانہ ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح بیٹھنا آپ کی تواضع اور عجز و انکسار کی دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1178 سے ماخوذ ہے۔