الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ يَسْتَأْذِنُهُ فيِ الْقِيَامِ باب: جب آدمی کسی کے پاس بیٹھے تو اٹھتے وقت اس سے اجازت لے
حدیث نمبر: 1173
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَّمٍ، فَقَالَ: إِنَّكَ جَلَسْتَ إِلَيْنَا، وَقَدْ حَانَ مِنَّا قِيَامٌ، فَقُلْتُ: فَإِذَا شِئْتَ، فَقَامَ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى بَلَغَ الْبَابَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو بردہ بن ابو موسیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تو انہوں نے فرمایا: آپ ہمارے پاس بیٹھے رہے جبکہ ہمارے جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ میں نے کہا: آپ جانا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ وہ اٹھے تو میں بھی ان کے ساتھ چل دیا یہاں تک کہ وہ گھر کے دروازے پر پہنچ گئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں اشعث راوی ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں اشعث راوی ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1173 سے ماخوذ ہے۔