حدیث نمبر: 1172
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: إِذَا كَانُوا أَرْبَعَةً فَلا بَأْسَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب چار آدمی ہوں تو پھر (دو کے الگ ہو کر گفتگو کرنے میں) کوئی حرج نہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ جب چار یا اس سے زیادہ آدمی ہوں تو کوئی حرج نہیں کہ دو الگ ہو کر گفتگو کریں کیونکہ اس طرح بدظنی پیدا ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب چار یا اس سے زیادہ آدمی ہوں تو کوئی حرج نہیں کہ دو الگ ہو کر گفتگو کریں کیونکہ اس طرح بدظنی پیدا ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1172 سے ماخوذ ہے۔