حدیث نمبر: 117
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ حَيَّانَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ فِي دَارِ الْمُقَامِ، فَإِنَّ جَارَ الدُّنْيَا يَتَحَوَّلُ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ دعا بھی ہوتی تھی: ”اے اللہ! میں مستقل جائے قیام میں برے ہمسائے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، کیونکہ دنیا (سفر) کا ہمسایہ تو بدلتا رہتا ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الجار / حدیث: 117
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : الصحيحة : 1443 - أخرجه النسائي ، كتاب الاستعاذة ، باب الاستعاذة من جار السوء : 5504»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اس حدیث میں ہمسایوں کی دو اقسام ذکر کی گئی ہیں:محلے وغیرہ میں مستقل ہمسایہ، جنگل یا سفر کا ہمسایہ، جنگل یا سفر کا ہمسایہ بھی اگر برا ہو تو انسان کا سفر کٹھن ہو جاتا ہے۔ اس سے انسان اس طرح چھٹکارا پاسکتا ہے کہ کسی اور جگہ اپنا خیمہ لگالے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ خود دوسری جگہ منتقل ہو جائے لیکن جہاں انسان مستقل رہائش پذیر ہے، لاکھوں روپے لگا کر مکان بنایا ہے نواب وہاں سے انسان کے لیے رہائش تبدیل کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات محال ہوتا ہے اس لیے مستقل قیام گاہ کے برے ہمسائے سے پناہ طلب کی گئی ہے۔
(۲) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوشش کرکے اچھا ہمسایہ تلاش کرنا چاہیے اور برے پڑوس سے بچنا چاہیے تاہم اگر انسان کسی آزمائش میں پھنس جائے تو اسے چاہیے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتا رہے۔ اس طرح وہ اس کے افعال سے بری الذمہ ہو جائے گا اور قیامت کے روز بھی اس کی ہمسائیگی سے محفوظ رہے گا۔
(۳) اگر ’’دارالمقام‘‘ سے آخرت مراد لی جائے تو پھر اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ قیامت کے روز برے لوگوں کا پڑوس نہ دینا کیونکہ وہ یقینا جہنم ہوگا۔
(۴) اللہ تعالیٰ سے دعا و التجا مومن کا ہتھیار ہے۔ انسان کتنا صاحب بصیرت ہو فیصلہ کرنے میں غلطی کرسکتا ہے۔ ممکن ہے وہ کسی کو اچھا سمجھ کر اس کا پڑوس اختیار کرلے لیکن اس کا اندازہ غلط ہو، کسی کو اچھا سمجھ کر اس کے ساتھ شراکت کرلے لیکن وہ دھوکے باز ہو اس لیے اللہ تعالیٰ سے التجا ضرور کرتے رہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 117 سے ماخوذ ہے۔