حدیث نمبر: 1167
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ مَنْ تَسَمَّعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ‏.‏ وَمَنْ تَحَلَّمَ بِحُلْمٍ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَةً‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جس نے کسی قوم کی بات پر کان لگائے جبکہ وہ یہ ناپسند کرتے ہوں تو اس کے کان میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔ اور جس نے جھوٹا خواب بنایا اس کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ جو کے دانے کو گرہ لگائے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1167
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوفًا وقد صح مرفوعًا
تخریج حدیث «صحيح الإسناد موقوفًا وقد صح مرفوعًا : أنظر الحديث ، رقم : 1159 - ن»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اگر تین افراد ہوں تو ایک کو الگ کرکے سرگوشی کرنا درست نہیں کیونکہ شیطان اس کے دل میں یہ وسوسہ پیدا کرسکتا ہے کہ یہ میرے خلاف بات کر رہے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ علیحدگی میں کوئی بات کر رہا ہے تو کسی کے لیے جائز نہیں کہ ان کی بات سننے کی کوشش کرے۔ ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1167 سے ماخوذ ہے۔