حدیث نمبر: 1159
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”مَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهِ وَعُذِّبَ، وَلَنْ يَنْفُخَ فِيهِ‏.‏ وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَعُذِّبَ، وَلَنْ يَعْقِدَ بَيْنَهُمَا، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ مِنْهُ، صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الآنُكُ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی تصویر بنائی، قیامت کے دن اسے مجبور کیا جائے گا کہ اس میں روح پھونکے، اور عذاب دیا جائے گا، اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔ اور جس نے جھوٹا خواب بنایا تو اسے مجبور کیا جائے گا کہ وہ جو کے دو دانوں میں گرہ لگائے، اور عذاب دیا جائے گا، اور وہ ہرگز ان کو آپس میں گرہ نہیں لگا سکے گا، اور جس نے ایسے لوگوں کی بات سننے کی کوشش کی جو اس سے بھاگتے ہوں، یعنی بات نہ سنانا چاہتے ہوں تو اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1159
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب البيوع : 2225 ، 5963 ، 7042 و أبوداؤد : 5024 و الترمذي : 1751»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)تصویر بنانا اور بنوانا حرام ہے۔ اس سے مراد جانداروں کی تصاویر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویریں بنانے والوں کے لیے سخت وعید سنائی ہے۔ اس لیے اس سے ہر ممکن گریز ضروری ہے۔
(۲) کوئی شخص اگر کوئی خفیہ بات کر رہا ہو تو اس کی طرف کان لگانا کبیرہ گناہ ہے۔ ہاں اگر عام مجلس میں گفتگو ہو رہی ہو یا ویسے بات کانوں میں پڑ جائے یا ملکی مفاد کے لیے جاسوسی مقصود ہو تو جائز ہوگا۔ اسی طرح جھوٹا خواب بنانے کی بھی سخت وعید ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1159 سے ماخوذ ہے۔