الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ إِذَا أَرْسَلَ رَجُلًا فِي حَاجَةٍ فَلَا يُخْبِرُهُ باب: جب کوئی آدمی کسی کو کسی دوسرے آدمی کو بلانے کے لیے بھیجے تو قاصد اسے تفصیل سے بتائے بغیر صرف بلا کر لائے
حدیث نمبر: 1156
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: إِذَا أَرْسَلْتُكَ إِلَى رَجُلٍ، فَلاَ تُخْبِرْهُ بِمَا أَرْسَلْتُكَ إِلَيْهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يُعِدُّ لَهُ كِذْبَةً عِنْدَ ذَلِكَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: جب میں تمہیں کسی آدمی کے پاس بھیجوں کہ اسے بلا کر لاؤ تو یہ مت بتایا کرو کہ میں نے اسے کس لیے بلایا ہے، کیونکہ اس طرح شیطان اسے (اس بات کے حوالے سے) جھوٹ تیار کر دے گا (اور وہ صحیح بات نہیں بتائے گا)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں عبداللہ بن زید بن اسلم راوی لین ہے لیکن ابن وہب اور ابن شیبہ کے ہاں اس کی متابعت موجود ہے اس لیے یہ موقوف اثر صحیح ثابت ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں عبداللہ بن زید بن اسلم راوی لین ہے لیکن ابن وہب اور ابن شیبہ کے ہاں اس کی متابعت موجود ہے اس لیے یہ موقوف اثر صحیح ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1156 سے ماخوذ ہے۔