حدیث نمبر: 114
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ‏:‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”يَا أَبَا ذَرٍّ، إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَ الْمَرَقَةِ، وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ، أَوِ اقْسِمْ فِي جِيرَانِكَ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

(ایک دوسری سند سے) سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو ذر! جب تم شوربہ پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈالو، اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو“، یا فرمایا: ”اپنے ہمسایوں میں بھی تقسیم کرو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الجار / حدیث: 114
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، الأدب ، باب الوصية بالجار و الإحسان إليه : 2625 و الترمذي: 1833 و ابن ماجه : 3362»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ گوشت وغیرہ عمدہ کھانا بناؤ تو پڑوسیوں کو بھی بھیجو اور ان کا خصوصی خیال رکھو۔ پانی زیادہ ڈالنے کا یہ مطلب نہیں کہ سالن کو خراب کر دیا جائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 114 سے ماخوذ ہے۔