حدیث نمبر: 1116
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عَامِرًا يَقُولُ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا‏:‏ ”جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلامَ“، فَقَالَتْ‏:‏ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللهِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبریل تمہیں سلام کہتے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ»۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب أهل الكتاب / حدیث: 1116
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، المناقب : 3768 و مسلم : 2447»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ غائبانہ سلام کہنا جائز ہے اور اس کا جواب دینا بھی مسنون ہے۔ اس کی تفصیل حدیث ۸۲۷ کے تحت گزر چکی ہے کہ پیغام پہنچانے والے اور سلام کہنے والے دونوں کو سلامتی کی دعا دی جائے، یعنی علیک وعلیہ السلام۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1116 سے ماخوذ ہے۔