حدیث نمبر: 1115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ‏:‏ مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِنَصْرَانيٍّ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَأُخْبِرَ أَنَّهُ نَصْرَانِيٌّ، فَلَمَّا عَلِمَ رَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ‏:‏ رُدَّ عَلَيَّ سَلامِي‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

عبدالرحمٰن بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک عیسائی کے پاس سے گزرے تو اسے سلام کہا اور اس نے جواب بھی دیا۔ بعد ازاں انہیں بتایا گیا کہ وہ تو عیسائی ہے۔ جب انہیں یہ علم ہوا تو اس کے پاس گئے اور فرمایا: میرا سلام مجھے واپس کرو۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب أهل الكتاب / حدیث: 1115
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه عبدالرزاق : 19458 و البيهقي فى شعب الإيمان : 8906 - أنظر الإرواء : 1274»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا مقصد اس بات کا اظہار تھا کہ کافر ابتداء ً سلام کا مستحق نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ صرف مسلمان کا حق ہے کیونکہ کافر و مشرک سلامتی اور خیر وبرکت کے مستحق نہیں ہوسکتے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1115 سے ماخوذ ہے۔