الادب المفرد
كتاب أهل الكتاب— كتاب أهل الكتاب
بَابُ: كَيْفَ يَدْعُو لِلذِّمِّيِّ؟ باب: ذمی کے لیے کس طرح دعا کرے
حدیث نمبر: 1114
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ دَيْلَمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ، فَكَانَ يَقُولُ: ”يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چھینک مارتے، اس امید سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں «يرحمكم الله» کہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے معاملات کی اصلاح کرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
ان روایات سے معلوم ہوا کہ کافر اگر واضح الفاظ میں سلام کہیں یا کوئی دعا دیں تو اس کا جواب دیا جاسکتا ہے۔ تاہم عمومی حالت میں وعلیکم پر اکتفا کرنا ہی زیادہ بہتر ہے۔ اسی طرح کسی کافر کو مرحوم کہنا بھی درست نہیں۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ کافر اگر واضح الفاظ میں سلام کہیں یا کوئی دعا دیں تو اس کا جواب دیا جاسکتا ہے۔ تاہم عمومی حالت میں وعلیکم پر اکتفا کرنا ہی زیادہ بہتر ہے۔ اسی طرح کسی کافر کو مرحوم کہنا بھی درست نہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1114 سے ماخوذ ہے۔